NEW BAYAN - DIL KA SUKOON AUR PARESHANION KA HAL.IS UPLOADED

Jan 2015 DoD

READ ONLINE                 DOWNLOAD

دہشت گردی کسے کہتے ہیں؟

ظلم وناانصافی کی کوکھ سے پیدا ہونے والاجذبہ’’ دہشت گردی‘‘ کہلاتاہے۔ پھر اس دہشت گردی کو جس چیزسے روکا جاتاہے وہ ’’جہاد‘‘ کہلاتاہے۔

آج ساری دنیا مسلمانوں کو شدت پسند، دہشت گرد، آتنگ واد جیسے گھناؤنے القاب سے یاد کررہی ہے،جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان جہاں بھی ہیں مظلوم بن کر زندگی گذار رہے ہیں۔

دنیا کا غریب ترین ملک ’’افغانستان‘‘ اپنے وجود کی بقاء کی جنگ لڑرہاہے، آج ساری دنیا افغانستان سے خائف ہے، ان کے فقیرانہ لباس کو خوفناک دہشت گردی کی پہچان بنادیا گیا ہے، حالانکہ ان خانہ بدوشوں کے پاس نہ تعلیم ہے اور نہ دولت اور نہ ہی کوئی ترقی ہے۔

پہلے ’’روس‘‘ نے ان کو مارا اس سے نجات حاصل کی، وہ بھی کسی کے ذریعہ۔ پھر جو ذریعہ بنا اسی نے ظلم کیا، یہاں تک کہ اب اللہ تعالیٰ نے اس سے بھی نجات عطافرمائی۔ آج اس قوم کو ساری دنیا دہشت گردی کی علامت قرار دے رہی ہے۔

درحقیقت دہشت گردی ایک شاطر قوم کا سوچا سمجھا منصوبہ بن چکاہے، ان کی ترقی کا آسمان دہشت گردی کی ستونوں پرکھڑا ہے۔اگر پیشہ ورانہ دہشت گردی نہ ہو تو ترقی یافتہ کہی جانے والی قوم کی ترقی دھڑام سے نیچے آجائے ان کی سرزمین پر جو پھول کھلتے ہیں وہ درحقیقت غریبوں کے خون سے پروان چڑھتے ہیں، اگر ان کے ہتھیار فروخت نہ ہوں تو ان کے چولہے ٹھنڈے پڑجائیں۔ آج پوری دنیا میں جو ہتھیار استعمال ہورہے ہیں ذرا کوئی بتائے کہ یہ کس مسلم ملک میں بنے ہیں۔ افغانستان سے لے کر عراق وشام تک جو اسلحہ آگ برسا رہاہے وہ سامراجی قوتوں کی دین نہیں ہے؟!۔

حقیقت تو یہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے بنی ہوئی تلواروں سے اتنا خون نہیں بہا جتنا انسانوں کے نام نہاد ہمدردوں کے بے درد ہتھیاروں سے انسانیت کا خون بہا ہے۔

آج عالمی سامراجی قوتیں اپنے فضل وکمال کی بنیادوں پر اقوامِ عالم سے اپنا لوہا نہیں منوارہی بلکہ اپنی عیاری اور خطرناک ہتھیاروں کے ذخیرہ اندوزی سے ڈرا دھمکا کر دنیا پر اپناسکہ جمانا چاہتی ہیں، شاید اس جادوگری سے کسی کی زبان خاموش ہوجائے مگر دل مطمئن کبھی نہیں ہوسکتے۔

بقول یاسر محمد خان کے ’’نوم چومسکی‘‘ (Noam Chomsky) امریکہ کے ایک بہت بڑے دانشور ہیں۔ وہ ہارورڈ یونیورسٹی میں پروفیسر کے عہدے پر فائز رہے۔ Psycho Linguistics پر انہوں نے بہت سی کتابیں مرتب کیں۔ ان کی عالمی شہرت کی ایک بہت بڑی وجہ امریکی استعمار پر ان کی بے لاگ تنقید رہی ہے۔ امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو انہوں نے ڈٹ کر اس کی مخالفت کی۔ ان کے مضامین اخباروں میں چھپتے ہی عالمی سطح پر سرا ہے جانے لگے۔ ان کا سب سے زوردار آرٹیکل ’’امریکی سامراج‘‘ تھا۔ اس کا ترجمہ دنیا کی ہر زبان میں ہوا اور یہ مظلوموں کے دلوں کی آواز بن گیا۔ انہوں نے امریکی سامراجیت کا پوسٹ مارٹم کردیا۔ اس مضمون کے آغاز میں انہوں نے امریکیوں کو مخاطب کر کے کہا: ’’ہماری آج کی دنیا بظاہر علم کی ہے۔ پر اس میں دانش مفقود ہے۔ یہ زندہ ضمیر سے محروم طاقت کی اندھی دنیا بن کر رہ گئی ہے۔ ہم امریکی زندہ رکھنے کے علم سے کہیں زیادہ ہلاک کردینے کے علم پر دسترس رکھتے ہیں۔ ہم امریکی امن سے زیادہ جنگی جنون پر مہارت کے حامل ہیں۔ ہم جوہری ہتھیاروں کے اعتبار سے تو جن بن گئے، لیکن اخلاقی اعتبار سے بونوں کے درجے پر فائز ہوگئے۔‘‘

اسی مضمون میں چومسکی کچھ آگے جا کر لکھتے ہیں: ’’ ۱۱ستمبر کا واقعہ محض اس لیے تاریخی اہمیت نہیں رکھتا کہ اس میں تباہ کاری کا حجم زیادہ تھا۔

یہ اس لیے اہم ہے کہ اس کا نشانہ امریکہ بنا۔  ۱۸۱۴؁ءمیں واشنگٹن پر برطانوی بمباری کے بعد امریکہ پر پہلی بار حملہ ہوا۔ دو صدیوں تک امریکہ دنیا بھر میں حملے کرتا رہا۔ وہ مظلوموں کو روندتا رہا، کچلتا رہا، وہ مقامی آبادیوں کی ہولناک ہلاکت میں ملوث رہا۔ ۱۱ ؍ ستمبر کو پہلی بار توپوں کا رُخ اس کی طرف مڑا۔ دنیا بھر میں دہشت گردی کرنے والا امریکہ خود اس کا نشانہ بن گیا۔ بارود کی بو جب امریکی نتھنوں میں گھسی تو وہ اس سے پاگل ہوگیا۔ ہوش وحواس مکمل طور پر کھو بیٹھا ۔ دوسروں کو پاگل قرار دے کر واویلا کرنے والاامریکہ خود خوفناک پاگل پن کا شکار ہوگیا۔‘‘

’’ نوم چومسکی‘‘ کے اس مضمون کے شائع ہوتے ہی امریکہ میں غیض و غضب کا طوفان آگیا۔ جنونی امریکی اس کے بدترین دشمن بن گئے۔ امریکی حکومت نے چومسکی کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے دیا۔ ان کی آزادانہ نقل و حرکت کو نہایت درجہ محدود کر دیا گیا۔ اخبارات کو ان کے آرٹیکل شائع نہ کرنے کی ہدایات جاری کردی گئیں۔ تقریبات میں ان کے خطاب پر پابندی لگا دی گئی۔ چومسکی کی آواز کو، مگر دبایا نہ جا سکا۔ انہوں نے اپنے بلاگ کے ذریعے کروڑوں لوگوں کو امریکی سنگدلی اور حیوانیت سے آگاہ رکھا۔ لوگ ایک دہائی تک اس عظیم دانشور کے تبصروں سے روشنی اور حرارت لیتے رہے۔

  اللہ رب العزت عافیت کے ساتھ ہم سب کو دہشت گردی،آتنک واد، جہاد وغیرہ کےصحیح معنی ومفہوم سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں، اورغلط مفہوم لینے اورسمجھنے سے حفاظت فرمائیں۔ آمین

Go to top